مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ سورة الروم آية 15، قَالَ السَّمَّاعُ: وَمَعْنَى السَّمَّاعِ: مثل ما ورد في الحديث " أَنَّ الْحُورَ الْعِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ: «فهم في روضة يحبرون» ”وہ جنت میں خوش کر دیئے جائیں گے“ کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي) (صحیح)»