مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَاصِلٍ هُوَ ابْنُ السَّائِبِ ، أَبِي سَوْرَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ وَاصِلٍ هُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ أَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أُدْخِلْتَ الْجَنَّةَ أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ ثُمَّ طَارَ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَلَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو سَوْرَةَ هُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ جِدًّا، قَالَ: وَسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ: أَبُو سَوْرَةَ هَذَا مُنْكَرُ الْحَدِيثِ يَرْوِي مَنَاكِيرَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوایوب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑا پسند ہے، کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”اگر تم جنت میں داخل کئے گئے تو تمہیں یاقوت کا گھوڑا دیا جائے گا، اس کے دو پر ہوں گے تم اس پر سوار کئے جاؤ گے پھر جہاں چاہو گے وہ تمہیں لے کر اڑے گا
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ ہم اسے ابوایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- ابوسورۃ، ابوایوب کے بھتیجے ہیں۔ یہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ انہیں یحییٰ بن معین نے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: ابوسورۃ منکر حدیث ہیں، یہ ابوایوب رضی الله عنہ سے ایسی کئی منکر احادیث روایت کرتے ہیں، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2544] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3496) (حسن) (تراجع الالبانی 245، الصحیحہ 3001، صحیح الترغیب 3756، و 3757)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (5643) ، الضعيفة أيضا // ضعيف الجامع الصغير (1287) //
الحكم: ضعيف، المشكاة (5643) ، الضعيفة أيضا // ضعيف الجامع الصغير (1287) //