بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 253 — باب: رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔ حدیث 253
قُتَيْبَةُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ "، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ , وَأَبِي مُوسَى , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , ووَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ , وَعَلِيٌّ وَغَيْرُهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَعَلَيْهِ عَامَّةُ الْفُقَهَاءِ وَالْعُلَمَاءِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر، ابو مالک اشعری، ابوموسیٰ، عمران بن حصین، وائل بن حجر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ کرام کا جن میں ابوبکر، عمر، عثمان علی رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین کا عمل اسی پر ہے اور اسی پر اکثر فقہاء و علماء کا عمل بھی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/التطبیق 34 (1084)، و83 (1143)، و90 (1150)، وفی السہو70 (1320)، (تحفة الأشراف: 9174) وکذا (9470)، مسند احمد (1/486، 442، 443)، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1283م) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت والی نماز میں ۲۲ تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نمازوں میں کل ۹۴ تکبیریں ہوئیں، واضح رہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت آپ «سمع الله لمن حمده‏» کہتے تھے، اس لیے اس حدیث کے عموم سے یہ مستثنیٰ ہے، ان تکبیرات میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے باقی سب سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہو جائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (330)
الحكم: صحيح، الإرواء (330)
← پچھلی حدیث (252) باب پر واپس اگلی حدیث (254) →