عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانَ ، فِرَاسٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا، وَقَالَ: ذَلِكَ الظِّلُّ الْمَمْدُودُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مَنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہو گا
“، نیز آپ نے فرمایا:
”یہی
«ظل الممدود» ہے (یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے)
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2524] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4221) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح ويأتى من حديث أنس (3347)
الحكم: صحيح ويأتى من حديث أنس (3347)