بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2515 — باب:۔۔۔
کتب جامع ترمذی کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع باب:۔۔۔ حدیث 2515
حدیث نمبر: 2515 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مومن کامل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، صحیح مسلم/الإیمان 17 (45)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5019)، 33 (5042)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (66) (تحفة الأشراف: 1239) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کا خیرخواہ ہونا چاہیئے، اگر مسلمان اپنے معاشرہ کو خود غرضی رشوت، بددیانتی، جعل سازی، لوٹ کھسوٹ وغیرہ سے پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس حدیث کو اپنے لیے نمونہ بنا کر اس پر عمل کرنا ہو گا، إن شاء اللہ جو بھی اخلاقی بیماریاں عام ہیں وہ ختم ہو جائیں گی، ورنہ ذلت اور بداخلاقی سے ہمیشہ دو چار رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (66)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (66)
← پچھلی حدیث (2514) باب پر واپس اگلی حدیث (2516) →