بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2464 — باب:۔۔۔
کتب جامع ترمذی کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع باب:۔۔۔ حدیث 2464
حدیث نمبر: 2464 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، أَبُو صَفْوَانَ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: " ابْتُلِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالضَّرَّاءِ فَصَبَرْنَا، ثُمَّ ابْتُلِينَا بِالسَّرَّاءِ بَعْدَهُ فَلَمْ نَصْبِرْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تکلیف اور تنگی میں آزمائے گئے تو اس پر ہم نے صبر کیا، پھر آپ کے بعد کی حالت میں کشادگی اور خوشی میں آزمائے گئے تو ہم صبر نہ کر سکے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9719) (صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم بے انتہا مشقت و پریشانی کی زندگی گزار رہے تھے تو اس وقت ہم نے صبر سے کام لیا، لیکن آپ کے بعد جب ہمارے لیے مال و اسباب کی کثرت ہو گئی تو ہم گھمنڈ و تکبر میں مبتلا ہو گئے اور اترا گئے۔
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
(2464) إسناده ضعيف
الزهري مدلس وعنعن (تقدم:440) وللحديث شواهد ضعيفه
الحكم: حسن الإسناد
← پچھلی حدیث (2463) باب پر واپس اگلی حدیث (2465) →