هَنَّادٌ ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ ، الْمُحَارِبِيُّ ، أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا كَانَتْ لِأَخِيهِ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي عِرْضٍ أَوْ مَالٍ فَجَاءَهُ فَاسْتَحَلَّهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ، وَلَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ حَمَّلُوا عَلَيْهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ ایسے بندے پر رحم کرے جس کے پاس اس کے بھائی کا عزت یا مال میں کوئی بدلہ ہو، پھر وہ مرنے سے پہلے ہی اس کے پاس آ کے دنیا ہی میں اس سے معاف کرا لے کیونکہ قیامت کے روز نہ تو اس کے پاس دینار ہو گا اور نہ ہی درہم، پھر اگر ظالم کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اس کی نیکیوں سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں بھی نہیں ہوں گی تو مظلوموں کے گناہ ظالم کے سر پر ڈال دیئے جائیں گے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث سعید مقبری کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- مالک بن انس نے
«عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2419] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12958) (صحیح) (الصحیحة 3265)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف - بهذا اللفظ -، والصحيح بلفظ: " من كانت عنده مظلمة لأخيه فليتحلله ... "، الضعيفة (3641) // ضعيف الجامع الصغير (3112) //
الحكم: ضعيف - بهذا اللفظ -، والصحيح بلفظ: " من كانت عنده مظلمة لأخيه فليتحلله ... "، الضعيفة (3641) // ضعيف الجامع الصغير (3112) //