بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 237 — باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے۔ حدیث 237
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاسْمُ أَبِي عَوَانَةَ وَضَّاحٌ،. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ قُتَيْبَةَ قُلْتُ: أَبُو عَوَانَةَ مَا اسْمُهُ؟ قَالَ وَضَّاحٌ: قُلْتُ ابْنُ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي كَانَ عَبْدًا لِامْرَأَةٍ بِالْبَصْرَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور سب زیادہ مکمل نماز پڑھنے والے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 37 (469)، سنن النسائی/الإمامة 35 (825)، (تحفة الأشراف: 1432)، مسند احمد (3/170، 173، 179، 231، 234، 276)، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سب سے ہلکی نماز ہوتی تھی سے مراد یہ ہے کہ آپ لمبی قرأت نہیں کرتے تھے، اسی طرح لمبی دعاؤں سے بھی بچتے تھے، اور سب سے زیادہ مکمل نماز کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز کے جملہ ارکان و سنن اور مستحبات کو بحسن خوبی اطمینان سے ادا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (236) باب پر واپس اگلی حدیث (238) →