عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ ، أَبِيهِ ، حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ ، خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: " عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ سورة الحج آية 30 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا عِنْدِي أَصَحُّ، وَخُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَهُ صُحْبَةٌ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ مَشْهُورٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا:
”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے
“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی
«واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے،
۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2300] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الأحکام 32 (2372) (ضعیف) (سند میں زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ زبير على زئي
(2300) إسناده ضعيف
/ د 3599، جه 2372 وانظر الحديث السابق: 2299
الحكم: **