مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، وَكِيعَ بْنَ عُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ عُدُسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يَتَحَدَّثْ بِهَا، فَإِذَا تَحَدَّثَ بِهَا سَقَطَتْ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا لَبِيبًا أَوْ حَبِيبًا ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورزین عقیلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎“، ابورزین کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا: ”خواب صرف اس سے بیان کرو جو عقلمند ہو یا جس سے تمہاری دوستی ہو“۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 96 (5020)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 6 (3914) (تحفة الأشراف: 11174)، و سنن الدارمی/الرؤیا 11 (2194) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس خواب کی تعبیر جب تک بیان نہیں کی جاتی یہ خواب معلق رہتا ہے، اس کے لیے ٹھہراؤ نہیں ہوتا، تعبیر آ جانے کے بعد ہی اسے قرار حاصل ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (120) ، المشكاة (4622 / التحقيق الثانى)
الحكم: صحيح، الصحيحة (120) ، المشكاة (4622 / التحقيق الثانى)