بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2226 — باب: خلافت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں باب: خلافت کا بیان۔ حدیث 2226
حدیث نمبر: 2226 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، سَفِينَةُ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: وَخِلَافَةَ عُمَرَ، وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، ثُمَّ قَالَ لِي: أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ، قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلَافَةَ فِيهِمْ، قَالَ: كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، قَالَا: لَمْ يَعْهَدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخِلَافَةِ شَيْئًا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- اس باب میں عمر اور علی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ السنة 9 (4646، 4647) (تحفة الأشراف: 4480)، و مسند احمد (5/221) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مسند احمد میں سفینہ رضی الله عنہ سے ہر خلیفہ کے دور کی تصریح موجود ہے، اس تصریح کے مطابق ابوبکر رضی الله عنہ کی مدت خلافت دو سال، عمر رضی الله عنہ کی دس سال، عثمان رضی الله عنہ کی بارہ سال اور علی رضی الله عنہ کی چھ سال ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (459 و 1534 و 1535)
الحكم: صحيح، الصحيحة (459 و 1534 و 1535)
← پچھلی حدیث (2225) باب پر واپس اگلی حدیث (2227) →