بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2213 — باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے۔
کتب جامع ترمذی کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے۔ حدیث 2213
حدیث نمبر: 2213 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ ، عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، مُجَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بُعِثْتُ فِي نَفَسِ السَّاعَةِ، فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ لِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے زمانہ ہی میں بھیجا گیا پھر میں اس پر سبقت لے گیا جیسے یہ انگلی اس انگلی پر سبقت لے گئی، اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث مستورد بن شداد کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11262) (ضعیف) (سند میں ”مجالد بن سعید“ ضعیف ہیں)»
وضاحت
۱؎: اس سے اشارہ قیامت کے قریب ہونے کی طرف ہے، گویا آپ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے، جس طرح شہادت اور بیچ کی انگلی کے درمیان کوئی دوسری انگلی نہیں ہے، اس کا یہ بھی مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (5513)
قال الشيخ زبير على زئي
(2213) إسناده ضعيف
مجالد ضعيف (تقدم: 653) وعبيدة الأسود مدلس (طبقات المدلسين : 3/86) وعنعن وروي أحمد (348/5) بلفظ : ”بعثت أنا والساعة جميعاً ،إن كادت لتسبقني“ وسنده حسن
الحكم: ضعيف، المشكاة (5513)
← پچھلی حدیث (2212) باب پر واپس اگلی حدیث (2214) →