بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2194 — باب: اس فتنے کا بیان جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا۔
کتب جامع ترمذی کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں باب: اس فتنے کا بیان جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا۔ حدیث 2194
حدیث نمبر: 2194 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي "، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي وَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ لِيَقْتُلَنِي، قَالَ: " كُنْ كَابْنِ آدَمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي وَاقِدٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَخَرَشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بسر بن سعید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، میں نے عرض کیا: آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: آدم کے بیٹے (ہابیل) کی طرح ہو جانا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «رجلا» (ایک آدمی) کا اضافہ کیا ہے،
۳- سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے،
۴- اس باب میں ابوہریرہ، خباب بن ارت، ابوبکرہ، ابن مسعود، ابوواقد، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3846) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (758)
الحكم: صحيح، الصحيحة (758)
← پچھلی حدیث (2193) باب پر واپس اگلی حدیث (2195) →