إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، مَعْنٌ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
”آدمی کی باجماعت نماز اس کی تنہا نماز سے پچیس گنا بڑھ کر ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 216] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 30 (647)، و31 (648)، صحیح مسلم/المساجد 42 (649)، سنن النسائی/الصلاة 21، والإمامة 42 (839)، سنن ابن ماجہ/المساجد 16 (787)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 1 (2)، (تحفة الأشراف: 13239)، مسند احمد (2/252، 233، 264، 266، 328، 451، 473، 475، 486، 520، 525، 529) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: پچیس اور ستائیس کے مابین کوئی منافات نہیں ہے، پچیس کی گنتی ستائیس میں داخل ہے، یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے پچیس گنا ثواب کا ذکر کیا ہو بعد میں ستائیس گنا کا، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ فرق مسجد کے نزدیک اور دور ہونے کے اعتبار سے ہے اگر مسجد دور ہو گی تو اجر زیادہ ہو گا اور نزدیک ہو گی تو کم، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کمی و زیادتی خشوع و خضوع میں کمی و زیادتی کے اعتبار سے ہو گی، نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرق جماعت کی تعداد کی کمی و زیادتی کے اعتبار سے ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (786 و 787)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (786 و 787)