بُنْدَارٌ ، مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاق ، مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ، جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي عَزَّةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا يُعْرَفُ لِمَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مطر بن عکامس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت و ضرورت پیدا کر دیتا ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- مطر بن عکامس کی نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہیں معلوم ہے،
۳- اس باب میں ابوعزہ سے بھی روایت ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2146] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11284) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: چنانچہ بندہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے زمین کے اس حصہ کی جانب سفر کرتا ہے جہاں اللہ نے اس کی موت اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے، پھر وہاں پہنچ کر اس کی موت ہوتی ہے، «وما تدري نفس بأي أرض تموت» ”اور کسی جان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس کی موت کسی سر زمین میں آئے گی“ (لقمان: ۳۴)، اسی طرف اشارہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں موت آئے گی کسی کو کچھ خبر نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (110)
الحكم: صحيح، المشكاة (110)