هَنَّادٌ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ وَعَكٍ كَانَ بِهِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: " هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُذْنِبِ لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت کی جسے تپ دق کا مرض تھا، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ میری آگ ہے جسے میں اپنے گنہگار بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ جہنم کی آگ میں سے اس کا حصہ بن جائے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الطب 18 (3470) (تحفة الأشراف: 15439/ولم ینسبہ للترمذي)، و مسند احمد (2/440) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی وہ آخرت میں جہنم کی آگ سے محفوظ رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مریض کی عیادت کے وقت یوں بھی فرماتے تھے: «لابأس طهور إن شاء الله» ۔