بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2048 — باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان۔ حدیث 2048
حدیث نمبر: 2048 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: اللَّدُودُ، وَالسَّعُوطُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ، وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ: الْإِثْمِدُ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ "، قَالَ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ 75، وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی (نظر) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف إلا فقرة الاكتحال بالإثمد فصحيحة، ابن ماجة (3495 - 3497 - 3499)
قال الشيخ زبير على زئي
(2047 ،2048) إسناده ضعيف
عباد بن منصور : ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
الحكم: ضعيف إلا فقرة الاكتحال بالإثمد فصحيحة، ابن ماجة (3495 - 3497 - 3499)
← پچھلی حدیث (2047) باب پر واپس اگلی حدیث (2049) →