بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1983 — باب: گالی گلوچ کی مذمت سے متعلق ایک اور باب۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نیکی اور صلہ رحمی باب: گالی گلوچ کی مذمت سے متعلق ایک اور باب۔ حدیث 1983
حدیث نمبر: 1983 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "، قَالَ زُبَيْدٌ: قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جھگڑا کرنا کفر ہے ۱؎۔ راوی زبید بن حارث کہتے ہیں: میں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے سنی ہے؟ کہا: ہاں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 36 (48)، والأدب 44 (6044)، والفتن 8 (7076)، صحیح مسلم/الإیمان 28 (64)، سنن النسائی/المحاربة 27 (4113-4116)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (69)، والفتن 4 (3939) (تحفة الأشراف: 9243)، و مسند احمد (1/385، 411، 417، 433، 439، 446، 454، 460)، ویأتي في الإیمان برقم 2634) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھے کیونکہ ناحق کسی کو گالی دینا باعث فسق ہے، اور ناحق جھگڑا کرنا کفار کا عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (69)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (69)
← پچھلی حدیث (1982) باب پر واپس اگلی حدیث (1984) →