بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1938 — باب: آپس میں صلح کرانے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نیکی اور صلہ رحمی باب: آپس میں صلح کرانے کا بیان۔ حدیث 1938
حدیث نمبر: 1938 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام کلثوم بنت عقبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور وہ (خود ایک طرف سے دوسرے کے بارے میں) اچھی بات کہے، یا اچھی بات بڑھا کر بیان کرے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلح 2 (2692)، صحیح مسلم/البر والصلة 37 (2605)، سنن ابی داود/ الأدب 58 (4920) (تحفة الأشراف: 18353)، و مسند احمد (6/404) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: لوگوں کے درمیان صلح و مصالحت کی خاطر اچھی باتوں کا سہارا لے کر جھوٹ بولنا درست ہے، یہ اس جھوٹ کے دائرہ میں نہیں آتا جس کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے، مثلاً زید سے یہ کہنا کہ میں نے عمر کو تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے وغیرہ، اسی طرح کی بات عمر کے سامنے رکھنا، ایسا شخص جھوٹا نہیں ہے، بلکہ وہ ان دونوں کا محسن ہے، اور شریعت کی نظر میں اس کا شمار نیک لوگوں میں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الروض النضير (1196) ، الصحيحة (545)
الحكم: صحيح، الروض النضير (1196) ، الصحيحة (545)
← پچھلی حدیث (1937) باب پر واپس اگلی حدیث (1939) →