ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيل ، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيل، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے
۱؎، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناتا توڑنے پر بھی صلہ رحمی کرے۔
“
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں سلمان، عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1908] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 15 (5991)، سنن ابی داود/ الزکاة 45 (1697) (تحفة الأشراف: 8915)، و مسند احمد (2/163، 190، 193) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سند میں ابوالرداد ہے، اور امام ترمذی کے کلام میں نیچے ”رداد“ آیا ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ”رداد“ کو بعض لوگوں نے ”ابوالرداد“ کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے، (تقریب التہذیب)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح غاية المرام (404) ، صحيح أبي داود (1489)
الحكم: صحيح غاية المرام (404) ، صحيح أبي داود (1489)