أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ، أَوْ خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا:
”مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1700] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الجہاد 67 (2574)، سنن النسائی/الخیل 14 (3615، 3616، 3619)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 44 (2878)، (تحفة الأشراف: 14638)، و مسند احمد (2/256، 358، 425، 474) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بشرطیکہ یہ انعام کا مال مقابلے میں حصہ لینے والوں کی طرف سے نہ ہو، اگر ان کی طرف سے ہے تو یہ قمار و جوا ہے جو جائز نہیں ہے، معلوم ہوا کہ مقررہ انعام کی صورت میں مقابلے کرانا درست ہے، لیکن یہ مقابلے صرف انہی کھیلوں میں جائز ہیں، جن کے ذریعہ نوجوانوں میں جنگی و دفاعی ٹریننگ ہو، کبوتر بازی، غلیل بازی، پتنگ بازی وغیرہ کے مقابلے تو سراسر ذہنی عیاشی کے سامان ہیں، موجودہ دور کے کھیل بھی بیکار ہی ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2878)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2878)