هَنَّادٌ ، عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حُصَيْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَرِيرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعُرْوَةُ هُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ وَيُقَالُ: هُوَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّ الْجِهَادَ مَعَ كُلِّ إِمَامٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر (بھلائی) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری، جریر، ابوہریرہ، اسماء بنت یزید، مغیرہ بن شعبہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1694] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجہاد 43 (2750)، و44 (2752)، والخمس 8 (3119)، والمناقب 28 (3643)، صحیح مسلم/الإمارة 26 (1873)، سنن النسائی/الخیل 7 (4604، 3605)، سنن ابن ماجہ/التجارات 69 (2305)، والجہاد 14 (2786)، (تحفة الأشراف: 9897)، و مسند احمد (4/375، 376)، سنن الدارمی/الجہاد 24 (3119) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ وہ گھوڑے ہیں جو جہاد کے لیے استعمال یا جہاد کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
الحكم: صحيح