بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1665 — باب: سرحد کی حفاظت کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل جہاد باب: سرحد کی حفاظت کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 1665
حدیث نمبر: 1665 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: مَرَّ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِشُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ وَهُوَ فِي مُرَابَطٍ لَهُ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ يَا ابْنَ السِّمْطِ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ، وَرُبَّمَا قَالَ: خَيْرٌ، مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ فِيهِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَنُمِّيَ لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ شرحبیل بن سمط کے پاس سے گزرے، وہ اپنے «مرابط» (سرحد پر پاسبانی کی جگہ) میں تھے، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر وہاں رہنا گراں گزر رہا تھا، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے کہا: ابن سمط؟ کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، سلمان رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ کی راہ میں ایک دن کی پاسبانی ایک ماہ روزہ رکھنے اور تہجد پڑھنے سے افضل ہے، آپ نے «أفضل» کی بجائے کبھی «خير» (بہتر ہے) کا لفظ کہا: اور جو شخص اس حالت میں وفات پا گیا، وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت تک اس کا عمل بڑھایا جائے گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإمارة 50 (1913)، سنن النسائی/الجہاد 39 (3169)، (تحفة الأشراف: 4510)، و مسند احمد (5/440، 441) (صحیح) (مؤلف کی سند میں محمد بن المنکدر اور سلمان فارسی رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، مگر مسلم اور نسائی کی سند جو بطریق شرحبیل بن سمط ہے متصل ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی مرنے سے اس کے ثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہو گا، بلکہ تاقیامت جاری رہے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (1200)
الحكم: صحيح، الإرواء (1200)
← پچھلی حدیث (1664) باب پر واپس اگلی حدیث (1666) →