مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا غَيْرُ الشَّهِيدِ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، يَقُولُ: حَتَّى أُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مِمَّا يَرَى مِمَّا أَعْطَاهُ مِنَ الْكَرَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”شہید کے علاوہ کوئی جنتی ایسا نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہے، کہتا ہے: (دل چاہتا ہے کہ) اللہ کی راہ میں دس مرتبہ قتل کیا جاؤں، یہ اس وجہ سے کہ وہ اس مقام کو دیکھ چکا ہے جس سے اللہ نے اس کو نوازا ہے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1661] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1643 (تحفة الأشراف: 1386) (صحیح)»
الحكم: صحيح