عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَسَنَّ مِنْ الزُّهْرِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”مرنے والا کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جس کے لیے اللہ کے پاس ثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس کی خاطر لوٹنا چاہتا ہو۔ سوائے شہید کے، اس لیے کہ وہ شہادت کا مقام و مرتبہ دیکھ چکا ہے، چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور دوبارہ شہید ہو (کر آئے)
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1643] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجہاد 6 (2795)، و 21 (2817)، صحیح مسلم/الإمارة 29 (1877)، (تحفة الأشراف: 588)، و مسند احمد (3/103، 136، 153، 173، 251، 276، 278، 284، 289) ویأتي برقم 1661 (صحیح)»
الحكم: صحيح