قُتَيْبَةُ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1592] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجہاد 110 (2960)، والمغازي 35 (4169)، والأحکام 43 (7206)، و 44 (7208)، صحیح مسلم/الإمارة 18 (1860)، سنن النسائی/البیعة 8 (4164)، (تحفة الأشراف: 4536)، و مسند احمد (4/47، 51، 54) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔
الحكم: صحيح