بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 158 — باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان۔ حدیث 158
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَرَادَ بِلالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ: " أَبْرِدْ " , ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدْ فِي الظُّهْرِ " , قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، ساتھ میں بلال رضی الله عنہ بھی تھے۔ بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈا ہو جانے دو۔ انہوں نے پھر اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھ۔ وہ کہتے ہیں (ظہر تاخیر سے پڑھی گئی) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا تب انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھی، پھر فرمایا: گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ لہٰذا نماز ٹھنڈے میں پڑھا کرو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المواقیت 9 (535)، صحیح مسلم/المساجد 32 (616)، سنن ابی داود/ الصلاة 4 (401)، (تحفة الأشراف: 11914)، مسند احمد (5/155، 162، 176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (429)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (429)
← پچھلی حدیث (157) باب پر واپس اگلی حدیث (159) →