أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ بِسَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ بِسَهْمٍ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑے کو دو حصے اور آدمی (سوار) کو ایک حصہ دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجہاد 51 (2863)، والمغازي 38 (4228)، صحیح مسلم/الجہاد 17 (1762)، سنن ابی داود/ الجہاد 154 (2723)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 36 (2854)، (تحفة الأشراف: 7907)، و مسند احمد (2/2، 62، 72، 80)، سنن الدارمی/السیر 33 (2515) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی گھوڑ سوار کو تین حصے دئے گئے، ایک حصہ اس کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے، گھوڑے کا حصہ اس لیے زیادہ رکھا گیا کہ اس کی خوراک اور اس کی دیکھ بھال پر کافی خرچ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2854)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2854)