عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ , يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ , وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے ۱؎، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں“۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العقیقة 2 (5472)، (اشارة بعد حدیث سلمان الضبي) سنن ابی داود/ الضحایا 21 (2837)، سنن النسائی/العقیقة 5 (4225)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3165)، (تحفة الأشراف: 4581)، و مسند احمد (5/7، 8، 12، 17، 18، 22) وسنن الدارمی/الأضاحي 9 (2012) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «مرتهن» کے مفہوم میں اختلاف ہے: سب سے عمدہ بات وہ ہے جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمائی ہے کہ یہ شفاعت کے متعلق ہے، یعنی جب بچہ مر جائے اور اس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو قیامت کے دن وہ اپنے والدین کے حق میں شفاعت نہیں کر سکے گا، ایک قول یہ ہے کہ عقیقہ ضروری اور لازمی ہے اس کے بغیر چارہ کار نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بالوں کی گندگی و ناپاکی میں مرہون ہے، اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ اس سے گندگی کو دور کرو۔
۲؎: اس سلسلہ میں صحیح حدیث تو درکنار کوئی ضعیف حدیث بھی نہیں ملتی جس سے اس شرط کے قائلین کی تائید ہوتی ہو۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3165)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3165)