بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1518 — باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب۔
کتب جامع ترمذی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب۔ حدیث 1518
حدیث نمبر: 1518 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، أَبُو رَمْلَةَ ، مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ , قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ , هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مخنف بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں نے آپ کو فرماتے سنا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو ابن عون ہی کی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأضاحي 1 (2788)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1 (4229)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 2 (3125)، (تحفة الأشراف: 11244)، و مسند احمد (4/215) و (5/76) (حسن)»
وضاحت
۱؎: جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3125)
قال الشيخ زبير على زئي
(1518) إسناده ضعيف / د 2788، ن 4229، جه 3125
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3125)
← پچھلی حدیث (1517) باب پر واپس اگلی حدیث (1519) →