قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا , فَبَقِيَ عَتُودٌ , أَوْ جَدْيٌ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ وَكِيعٌ , الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ: يَكُونُ ابْنَ سَنَةٍ أَوْ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا , فَبَقِيَ جَذَعَةٌ , فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا أَنْتَ "،
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے صحابہ کرام کے درمیان تقسیم کر دیں، ایک
«عتود» (بکری کا ایک سال کا فربہ بچہ) یا
«جدي» ۱؎ باقی بچ گیا، میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا:
”تم اس کی قربانی خود کر لو
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- وکیع کہتے ہیں: بھیڑ کا جذع، چھ یا سات ماہ کا بچہ ہوتا ہے۔
۳- عقبہ بن عامر سے دوسری سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے، ایک جذعہ باقی بچ گیا، میں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:
”تم اس کی قربانی خود کر لو
“۔
[سنن ترمذي/كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1500] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، والشرکة 12 (2500)، والأضاحي 2 (5547)، و 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن النسائی/الضحایا 13 (4384- 4386)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3138)، (تحفة الأشراف: 9955)، و مسند احمد (4/144، 149، 152، 156)، سنن الدارمی/الأضاحي 4 (1996) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: راوی کو شک ہو گیا ہے کہ «عتود» کہا یا «جدی» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3138)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3138)