بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1489 — باب: کتا پالنے سے ثواب میں کمی کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: شکار کے احکام و مسائل باب: کتا پالنے سے ثواب میں کمی کا بیان۔ حدیث 1489
حدیث نمبر: 1489 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا , إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ , أَوْ صَيْدٍ , أَوْ زَرْعٍ , انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّهُ رَخَّصَ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ , وَإِنْ كَانَ لِلرَّجُلِ شَاةٌ وَاحِدَةٌ , حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ بِهَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک چہرے سے درخت کی شاخوں کو ہٹا رہے تھے اور آپ خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں انہیں مارنے کا حکم دیتا ۱؎، سو اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کتے کو مار ڈالو، جو گھر والے بھی شکاری، یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے یا بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتوں کے سوا کوئی دوسرا کتا باندھے رکھتے ہیں ہر دن ان کے عمل (ثواب) سے ایک قیراط کم ہو گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- یہ حدیث بسند «حسن البصریٰ عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1486 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کتوں کو دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق آپ نے اس لیے کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «وما من دآبة في الأرض ولا طائر يطير بجناحيه إلا أمم أمثالكم» یعنی: جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند ہیں جو اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں۔ (سورة الأنعام: ۳۸) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شکار، جانوروں اور کھیتی کی حفاظت کے لیے کتے پالنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3204)
قال الشيخ زبير على زئي
(1489) إسناده ضعيف / تقدم: 1486
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3204)
← پچھلی حدیث (1488) باب پر واپس اگلی حدیث (1490) →