بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1468 — باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: شکار کے احکام و مسائل باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔ حدیث 1468
حدیث نمبر: 1468 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَجِدُ فِيهِ مِنَ الْغَدِ سَهْمِي , قَالَ: " إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ فَكُلْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ , وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ مِثْلَهُ , وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ , وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر اگلے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں (اس شکار کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے ہی تیر نے شکار کو مارا ہے اور تم اس میں کسی اور درندے کا اثر نہ دیکھو تو اسے کھاؤ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- شعبہ نے یہ حدیث ابوبشر سے اور عبدالملک بن میسرہ نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کی ہے، دونوں روایتیں صحیح ہیں،
۳- اس باب میں ابوثعلبہ خشنی سے بھی روایت ہے،
۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1465 (تحفة الأشراف: 9854) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اس شکار پر تیر کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز کا بھی اثر ہے جس سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس کی موت اس دوسرے اثر سے ہوئی ہو تو ایسا شکار حلال نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2539)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2539)
← پچھلی حدیث (1467) باب پر واپس اگلی حدیث (1469) →