مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , فَاحْرِقُوا مَتَاعَهُ " , قَالَ صَالِحٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى مَسْلَمَةَ , وَمَعَهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , فَوَجَدَ رَجُلًا قَدْ غَلَّ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ , فَأَمَرَ بِهِ فَأُحْرِقَ مَتَاعُهُ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفٌ , فَقَالَ سَالِمٌ: بِعْ هَذَا وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ , فَقَالَ: إِنَّمَا رَوَى هَذَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ وَهُوَ: أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ , وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ , قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَالِّ , فَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِحَرْقِ مَتَاعِهِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جس شخص کو اللہ کی راہ میں مال (غنیمت) میں خیانت کرتے ہوئے پاؤ اس کا سامان جلا دو
“۔ صالح کہتے ہیں: میں مسلمہ کے پاس گیا، ان کے ساتھ سالم بن عبداللہ تھے تو مسلمہ نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، چنانچہ سالم نے (ان سے) یہ حدیث بیان کی، تو مسلمہ نے حکم دیا پھر اس (خائن) کا سامان جلا دیا گیا اور اس کے سامان میں ایک مصحف بھی پایا گیا تو سالم نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے صالح بن محمد بن زائدہ نے روایت کیا ہے، یہی ابوواقد لیثی ہے، یہ منکرالحدیث ہے،
۳- بخاری کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کے سلسلے میں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دوسری احادیث بھی آئی ہیں، آپ نے ان میں اس (خائن) کے سامان جلانے کا حکم نہیں دیا ہے،
۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1461] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الجہاد 145 (2713)، (تحفة الأشراف: 6763)، سنن الدارمی/السیر 49 (2537) (ضعیف) (سند میں ”صالح بن محمد بن زائدہ“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ضعيف أبي داود (468) // عندنا (580 / 2713) ، المشكاة (3633 / التحقيق الثاني) ، تحقيق المختارة (191 - 194) // ضعيف الجامع الصغير (5871) //
قال الشيخ زبير على زئي
(1461) إسناده ضعيف / د 2713
الحكم: ضعيف، ضعيف أبي داود (468) // عندنا (580 / 2713) ، المشكاة (3633 / التحقيق الثاني) ، تحقيق المختارة (191 - 194) // ضعيف الجامع الصغير (5871) //