الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، السُّدِّيِّ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ , فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ , وَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا , فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ , فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا , أَوْ قَالَ: تَمُوتَ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ , قَدْ سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , وَرَأَى حُسَيْنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے خطبہ کے دوران کہا: لوگو! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو، جس کی شادی ہوئی ہو اس پر بھی اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اس پر بھی، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا، چنانچہ آپ نے مجھے کوڑے لگانے کا حکم دیا، میں اس کے پاس آیا تو (دیکھا) اس کو کچھ ہی دن پہلے نفاس کا خون آیا تھا
۱؎ لہٰذا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو کہیں میں اسے قتل نہ کر بیٹھوں، یا انہوں نے کہا: کہیں وہ مر نہ جائے
۲؎، چنانچہ میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اسے بیان کیا، تو آپ نے فرمایا:
”تم نے اچھا کیا
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1441] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، (تحفة الأشراف: 10170) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی کچھ ہی دن قبل اس سے ولادت ہوئی تھی۔
۲؎: یہ شک راوی کی طرف سے ہے۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (7 / 360)
الحكم: صحيح، الإرواء (7 / 360)