بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1428 — باب: مجرم اپنے اقرار سے پھر جائے تو اس سے حد ساقط کرنے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل باب: مجرم اپنے اقرار سے پھر جائے تو اس سے حد ساقط کرنے کا بیان۔ حدیث 1428
حدیث نمبر: 1428 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ قَدْ زَنَى , فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ , فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ , فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ , حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ , وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ , فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ فَرَّ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر اعتراف کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ نے پھر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، پھر چوتھی مرتبہ اعتراف کرنے پر آپ نے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ ایک پتھریلی زمین کی طرف لے جائے گئے اور انہیں رجم کیا گیا، جب انہیں پتھر کی چوٹ لگی تو دوڑتے ہوئے بھاگے، حتیٰ کہ ایک ایسے آدمی کے قریب سے گزرے جس کے پاس اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو اسی سے مارا اور لوگوں نے بھی مارا یہاں تک کہ وہ مر گئے، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب پتھر اور موت کی تکلیف انہیں محسوس ہوئی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے اسے کیوں نہیں چھوڑ دیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی اور سندوں سے بھی مروی ہے، یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، انہوں نے اسے بطریق: «عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» اسی طرح روایت کی ہے (جو آگے آ رہی ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحدود 22 (6815)، والأحکام 19 (7167)، صحیح مسلم/الحدود 5 (16)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2554)، (تحفة الأشراف: 15061)، و مسند احمد (2/286-287، 450، 453) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: «هلا تركتموه لعله أن يتوب فيتوب الله عليه» یعنی اسے تم لوگوں نے کیوں نہیں چھوڑ دیا، ہو سکتا ہے وہ اپنے اقرار سے پھر جاتا اور توبہ کرتا، پھر اللہ اس کی توبہ قبول کرتا (اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے)۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح، ابن ماجة (2554)
الحكم: حسن صحيح، ابن ماجة (2554)
← پچھلی حدیث (1427) باب پر واپس اگلی حدیث (1429) →