بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1400 — باب: آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
کتب جامع ترمذی کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل باب: آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟ حدیث 1400
حدیث نمبر: 1400 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الدیات 22 (2662)، (تحفة الأشراف: 10582)، و مسند احمد (1/16، 23) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ”حجاج بن ارطاة متکلم فیہ راوی ہیں)»
وضاحت
۱؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے وجود کا سبب ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ بیٹا باپ کے خاتمے کا سبب بنے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2662)
قال الشيخ زبير على زئي
(1400) إسناده ضعيف /جه 2662
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (تقدم :527) وتابعه محمد بن عجلان وھو مدلس مشھور (تقدم: 1084)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2662)
← پچھلی حدیث (1399) باب پر واپس اگلی حدیث (1401) →