بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1310 — باب: بیع ملامسہ اور بیع منابذہ کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: بیع ملامسہ اور بیع منابذہ کا بیان۔ حدیث 1310
حدیث نمبر: 1310 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ، وَالْمُلَامَسَةِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ الشَّيْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا لَمَسْتَ الشَّيْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَرَى مِنْهُ شَيْئًا مِثْلَ مَا يَكُونُ فِي الْجِرَابِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوسعید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں تمہاری طرف یہ چیز پھینک دوں تو میرے اور تمہارے درمیان بیع واجب ہو جائے گی۔ (یہ منابذہ کی صورت ہے) اور ملامسہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں یہ چیز چھولوں تو بیع واجب ہو جائے گی اگرچہ وہ سامان کو بالکل نہ دیکھ رہا ہو۔ مثلاً تھیلے وغیرہ میں ہو۔ یہ دونوں جاہلیت کی مروج بیعوں میں سے تھیں لہٰذا آپ نے اس سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 10 (368)، ومواقیت الصلاة 30 (584)، والبیوع 63 (2146)، واللباس 20 (5819)، و21 (5821)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1511)، سنن النسائی/البیوع 23 (4513)، و26 (4517 و 4521)، سنن ابن ماجہ/التجارات 12 (2169)، (تحفة الأشراف: 13661)، وط/البیوع 35 (76)، واللباس 8 (17)، و مسند احمد (2/379، 419، 464)، 476، 480)، 491)، 496، 521)، 529) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، «مبیع» (سودا) مجہول ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح أحاديث البيوع
الحكم: صحيح أحاديث البيوع
← پچھلی حدیث (1309) باب پر واپس اگلی حدیث (1311) →