بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1307 — باب: تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی کرنے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی کرنے کا بیان۔ حدیث 1307
حدیث نمبر: 1307 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَنَّادٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ، وَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ، أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب (اس کی موت کے بعد) لیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ (تقاضے کے وقت) تنگ دست سے درگزر کریں، تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا: ہم اس سے زیادہ اس کے (درگزر کے) حقدار ہیں، تم لوگ اسے معاف کر دو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساقاة 6 (البیوع 27)، (1561)، (تحفة الأشراف: 9992)، و مسند احمد (4/120) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح أحاديث البيوع
الحكم: صحيح أحاديث البيوع
← پچھلی حدیث (1306) باب پر واپس اگلی حدیث (1308) →