عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، أَبَا عَاصِمٍ ، شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشْرَةً عَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا، وَالْمُشْتَرِي لَهَا، وَالْمُشْتَرَاةُ لَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب کی وجہ سے
”دس آدمیوں پر لعنت بھیجی: اس کے نچوڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے لے جانے والے پر، اس کے منگوانے والے پر، اور جس کے لیے لے جائی جائے اس پر، اس کے پلانے والے پر، اور اس کے بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کو خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی گئی ہو اس پر
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث انس رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے،
۲- اور اسی حدیث کی طرح ابن عباس، ابن مسعود اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے جسے یہ لوگ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1295] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الأشربة 6 (3381)، (تحفة الأشراف: 900) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح، ابن ماجة (3381)
الحكم: حسن صحيح، ابن ماجة (3381)