بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1241 — باب: صرف کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: صرف کا بیان۔ حدیث 1241
حدیث نمبر: 1241 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، نَافِعٍ ، وَابْنُ عُمَر ، أبي سعيد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا شَيبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَر، إلى أبي سعيد فحدثنا، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ هَاتَانِ، يَقُولُ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، لَا يُشَفُّ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهُ غَائِبًا بِنَاجِزٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَالْبَرَاءِ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَبِلَالٍ، قَالَ: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّبَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُبَاعَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مُتَفَاضِلًا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مُتَفَاضِلًا، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ، وقَالَ: إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ، حِينَ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ فِي الصَّرْفِ اخْتِلَافٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری رضی الله عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اسے میرے دونوں کانوں نے آپ سے سنا): سونے کو سونے سے برابر برابر ہی بیچو اور چاندی کو چاندی سے برابر برابر ہی بیچو۔ ایک کو دوسرے سے کم و بیش نہ کیا جائے اور غیر موجود کو موجود سے نہ بیچو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- رباء کے سلسلہ میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، ابوہریرہ، ہشام بن عامر، براء، زید بن ارقم، فضالہ بن عبید، ابوبکرہ، ابن عمر، ابودرداء اور بلال رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے،
۴- مگر وہ جو ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ وہ سونے کو سونے سے اور چاندی کو چاندی سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، جب کہ بیع نقدا نقد ہو، اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ سود تو ادھار بیچنے میں ہے اور ایسا ہی کچھ ان کے بعض اصحاب سے بھی مروی ہے،
۵- اور ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ ابو سعید خدری نے جب ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور ابن مبارک کہتے ہیں: صرف ۱؎ میں اختلاف نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 78 (2177)، صحیح مسلم/المساقاة 14 (البیوع 35)، (1584)، سنن النسائی/البیوع 47 (4574)، (تحفة الأشراف: 4385)، موطا امام مالک/البیوع 16 (30)، مسند احمد (3/4، 51، 61) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سونے چاندی کو بعوض سونے چاندی نقداً بیچنا بیع صرف ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (5 / 189) ، أحاديث البيوع
الحكم: صحيح، الإرواء (5 / 189) ، أحاديث البيوع
← پچھلی حدیث (1240) باب پر واپس اگلی حدیث (1242) →