بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1225 — باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان۔ حدیث 1225
حدیث نمبر: 1225 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ، سَعْدٌ ، هَنَّادٌ ، وَكِيعٌ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ ، سَعْدًا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، سَأَلَ سَعْدًا، عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟، قَالَ الْبَيْضَاءُ: فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ؟، فَقَالَ: " لِمَنْ حَوْلَهُ، أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَأَلْنَا سَعْدًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَصْحَابِنَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ ابوعیاش زید نے سعد رضی الله عنہ سے گیہوں کو چھلکا اتارے ہوئے جو سے بیچنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون افضل ہے؟ انہوں نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع فرمایا۔ اور سعد رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ سے تر کھجور سے خشک کھجور خریدنے کا مسئلہ پوچھا جا رہا تھا۔ تو آپ نے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا: کیا تر کھجور خشک ہونے پر کم ہو جائے گا؟ ۱؎ لوگوں نے کہا ہاں (کم ہو جائے گا)، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ مؤلف نے بسند «وكيع عن مالك» اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی اور ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ البیوع 18 (3359)، سنن النسائی/البیوع 36 (4549)، سنن ابن ماجہ/التجارات 45 (2464)، (تحفة الأشراف: 3854)، موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد (1/115، 171) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ مفتی کے علم و تجربہ میں اگر کوئی بات پہلے سے نہ ہو تو فتوی دینے سے پہلے وہ مسئلہ کے بارے میں تحقیق کر لے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2264)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2264)
← پچھلی حدیث (1224) باب پر واپس اگلی حدیث (1226) →