بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1222 — باب: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے۔
کتب جامع ترمذی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے۔ حدیث 1222
حدیث نمبر: 1222 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ قُتَيْبَةُ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ طَلْحَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزْنِيِّ جَدِّ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ۱؎ (بلکہ دیہاتی کو خود بیچنے دے
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں طلحہ، جابر، انس، ابن عباس، ابویزید کثیر بن عبداللہ کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور ایک اور صحابی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، والبیوع 6 (1520)، سنن النسائی/النکاح 20 (3241)، سنن ابن ماجہ/التجارات 15 (2175) (تحفة الأشراف: 13123)، مسند احمد (2/238) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع 64 (2150)، و70 (2160)، و71 (2162)، والشروط 8 (2723)، و 11 (2727)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن النسائی/البیوع 16 (4496)، و19 (4506)، و21 (4510)، مسند احمد (2/274، 394، 487) من غیر ہذا الوجہ (وانظر أیضا حدیث رقم 1134 و 1190) و1222، و1304)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس کا دلال نہ بنے، کیونکہ ایسا کرنے میں بستی والوں کا خسارہ ہے، اگر باہر سے آنے والا خود بیچتا ہے تو وہ مسافر ہونے کی وجہ سے بازار میں جس دن پہنچا ہے اسی دن کی قیمت میں اسے بیچ کر اپنے گھر چلا جائے گا اس سے خریداروں کو فائدہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2175)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2175)
← پچھلی حدیث (1221) باب پر واپس اگلی حدیث (1223) →