بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1214 — باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان۔ حدیث 1214
حدیث نمبر: 1214 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِعِشْرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَخَذَهُ لِأَهْلِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ بیس صاع غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے لیا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/البیوع 83 (4655)، (تحفة الأشراف: 6228)، سنن الدارمی/البیوع 44 (2624)، مسند احمد (1/236، 361)، وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/الرہون 1 (2439)، مسند احمد (1/300) من غیر ہذا الوجہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2239)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2239)
← پچھلی حدیث (1213) باب پر واپس اگلی حدیث (1215) →