زَيْنَبُ ، زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ: فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي فِي الطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
(دوسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں: پھر میں زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے پاس آئی جس وقت ان کے بھائی کا انتقال ہوا تو انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے لگایا پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے شوہر کے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی“۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 15879) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (2114)
الحكم: صحيح، الإرواء (2114)