هَنَّادٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الطہارة 90 (228)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 98 (581)، (تحفة الأشراف: 16024) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جنبی وضو اور غسل کے بغیر سو سکتا ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے تاکہ امت پریشانی میں نہ پڑے، رہا اگلی حدیث میں آپ کا یہ عمل کہ آپ جنابت کے بعد سونے کے لیے وضو فرما لیا کرتے تھے تو یہ افضل ہے، دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (581)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف / جه 581
أبو إسحاق مدلس (تقدم : 107) وصرح بالسماع عند البيهقي (1/201،202) ولكن المسند إليه ضعيف .
الحكم: صحيح، ابن ماجة (581)