هَنَّادٌ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَقِيتُ يَوْمًا عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَلَى حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْكَعْبَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک روز میں (اپنی بہن) حفصہ رضی الله عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت فرما رہے ہیں
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 11] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 12 (145) صحیح مسلم/الطہارة 17 (611) سنن ابی داود/ الطہارة 5 (12) سنن النسائی/الطہارة 22 (23) سنن ابن ماجہ/الطہارة 18 (322) (تحفة الأشراف: 8552) موطا امام مالک/القبلة 2 (3) مسند احمد (2/12، 13) سنن الدارمی/الطہارة 8 (694) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: احتمال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا یہ فعل خاص آپ کے لیے کسی عذر کی بنا پر تھا اور امت کے لیے خاص حکم کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کا یہ فعل قطعاً معارض ہے، اور پھر یہ کہ آپ اوٹ تھے۔ (تحفۃ الأحوذی: ۱/۲۲، ونیل الأوطارللشوکانی)
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (322)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (322)