عُبَيْدُ بْنِ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ ، أَبِي ، أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ ، أَبِي إِسْحَاق السَّبِيعِيِّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنِ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق السَّبِيعِيِّ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، أَوْ خَالِدٌ لِسُلَيْمَانَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ ". فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہٰ سے (یا خالد نے سلیمان سے) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا؟ جسے اس کا پیٹ مار دے
۱؎ اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: ہاں (سنا ہے)۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس کے علاوہ یہ اور بھی طریق سے مروی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1064] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الجنائز111 (2054) (تحفة الأشراف: 3503و4567) مسند احمد (4/262) و (5/292) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ہیضہ اور اسہال وغیرہ سے مر جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الأحكام (38)
الحكم: صحيح الأحكام (38)