أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، الْحَجَّاجُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ قال، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ: مَرَّةً إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ مَرَّةً: " بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ "، وَقَالَ مَرَّةً: " بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا أَيْضًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب میت قبر میں داخل کر دی جاتی (اور کبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے) جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی:
«بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله»، پڑھتے اور کبھی
«بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم» ”اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتا ہوں
“ پڑھتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے،
۳- نیز یہ صدیق الناجی کے واسطہ سے ابن عمر سے بھی موقوفاً مروی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1046] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الجنائز38 (1550) (تحفة الأشراف: 7644) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1550)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1550)