بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1040 — باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 1040
حدیث نمبر: 1040 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَحَدُهُمَا، أَوْ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ ". فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ، وَفِي الْبَاب: عَنْ الْبَرَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَثَوْبَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے۔ اور جو اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل کر لی جائے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، ان میں سے ایک قیراط یا ان میں سے چھوٹا قیراط احد کے برابر ہو گا۔ تو میں نے ابن عمر سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس بھیجا اور ان سے اس بارے میں پوچھوایا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ سچ کہتے ہیں۔ تو ابن عمر نے کہا: ہم نے بہت سے قیراط گنوا دیئے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ان سے کئی سندوں سے یہ مروی ہے،
۳- اس باب میں براء، عبداللہ بن مغفل، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری، ابی بن کعب، ابن عمر اور ثوبان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15058) وانظر: مسند احمد (2/498، 503) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان35 (47) والجنائز58 (1325) صحیح مسلم/الجنائز17 (945) سنن النسائی/الجنائز79 (1996) سنن ابن ماجہ/الجنائز 34 (1539) مسند احمد (2/233، 246، 280، 321، 387، 401، 430، 458، 475، 493، 521) من غیر ہذا الوجہ۔»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1539)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1539)
← پچھلی حدیث (1039) باب پر واپس اگلی حدیث (1041) →